پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض تحریکیں ایسی بھی رہی ہیں جنہوں نے اقتدار کو اپنی سیاست کا آخری ہدف بنانے کے بجائے نظریے، قومی مفاد، دینی تشخص اور عوامی حقوق کے تحفظ کو اپنی جدوجہد کا محور بنایا۔ یہ وہ تحریکیں ہیں جن کی طاقت صرف انتخابی نتائج میں نہیں بلکہ عوامی شعور، فکری مزاحمت اور اجتماعی بیداری میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ ملی پلیٹ فارم کی سیاسی جدوجہد بھی اسی نوعیت کی ایک داستان ہے؛ ایک ایسی جدوجہد جو مارشل لا کے سیاہ ادوار سے شروع ہو کر پارلیمانی ایوانوں، عوامی تحریکوں، انتخابی معرکوں اور قومی مسائل کے ہر حساس مرحلے تک پھیلی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ یہ صرف ایک جماعت یا سیاسی دھڑے کی تاریخ نہیں بلکہ ایک ایسے فکری و عوامی سفر کی روداد ہے جس نے پاکستانی سیاست میں اپنے مخصوص تشخص کے ساتھ مستقل جگہ بنائی۔
ملی پلیٹ فارم کی سیاسی فعالیت کا نقطۂ آغاز اگرچہ باضابطہ طور پر 1988ء کے انتخابات کو قرار دیا جاتا ہے، جب تختی کے انتخابی نشان کے ساتھ عملی انتخابی سیاست میں قدم رکھا گیا؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی سیاسی روح اس سے قبل مارشل لا کے دور میں ہی بیدار ہو چکی تھی۔ ایم آر ڈی تحریک میں شمولیت اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ یہ پلیٹ فارم آمریت کے مقابل جمہوری جدوجہد، عوامی حقوق اور آئین کی بالادستی کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے تمام سیاسی مراحل میں اس تحریک کی شناخت صرف مذہبی سیاست تک محدود نہیں رہی بلکہ جمہوری مزاحمت اور عوامی حقوق کے دفاع کے عنوان سے بھی ابھری۔
ملی پلیٹ فارم کی سیاست کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے ہمیشہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عادلانہ نظام کے قیام، اسلامی اقدار کے فروغ اور عوامی حقوق کے تحفظ کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ اس تحریک نے پاکستان میں سامراجی اثر و رسوخ، بیرونی مداخلت اور قومی خودمختاری کے خلاف مسلسل آواز بلند کی۔ یہ دعویٰ مبالغہ نہیں کہ ملک میں سامراجی منصوبوں کی مزاحمت میں تحریک نے اہم کردار ادا کیا۔ اسرائیل جیسی غاصب ریاست کو تسلیم کرنے کے خلاف واضح مؤقف، گوادر بندرگاہ کے معاملات، سیسمک سینٹر کے تنازع، سامراجی قوّتوں کو برتھیں دینے کے معاملات، ایمل کانسی اور ایاز بلوچ کی گرفتاریوں پر احتجاج، ثقافتی یلغار کے خلاف جدوجہد، دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرنا اور ملک میں امن و وحدت کے قیام کیلئے عملی کردار، یہ سب اس پلیٹ فارم کی سیاسی بصیرت اور جرأت مندانہ پالیسیوں کا حصہ رہے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام جدوجہد بندوق یا تشدّد کے ذریعے نہیں بلکہ خالصتاً جمہوری اور عوامی انداز میں کی گئی۔ تحریک نے عوامی طاقت، سیاسی بیداری اور منظم احتجاج کو اپنا ذریعہ بنایا۔ یہی وہ پہلو ہے جس نے اسے دیگر جماعتوں سے ممتاز کیا، کیونکہ اس نے ہمیشہ سیاسی اختلاف کو جمہوری حدود کے اندر رکھتے ہوئے قومی مسائل پر اپنا دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔
1992ء میں تحریک کے منیر گیلانی کا وفاقی نگران وزیرِ تعلیم مقرر ہونا اس پلیٹ فارم کی سیاسی سنجیدگی کا اہم اظہار تھا۔ اسی سال تحریک کا تاریخی لانگ مارچ بھی پاکستانی سیاست کا ایک اہم باب بن گیا، جس نے سیاسی جمود کو توڑا اور بالآخر 1993ء کے انتخابات کی راہ ہموار ہوئی۔ یہ لانگ مارچ محض احتجاج نہیں بلکہ جمہوری عمل کی بحالی کیلئے ایک بھرپور عوامی دباؤ تھا۔
1993ء کے انتخابات میں مخدوم مرید کاظم کی صوبائی اسمبلی میں کامیابی اور بعد ازاں صوبائی وزیر بننا تحریک کی پارلیمانی سیاست کا اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس کے بعد شمالی علاقہ جات، موجودہ گلگت بلتستان، میں 1994ء کے انتخابات نے سیاسی منظرنامہ بدل دیا، جہاں تحریک نے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن جیسی بڑی جماعتوں کو شکست دے کر اپنی عوامی قوّت کا بھرپور اظہار کیا۔ یہ کامیابی محض انتخابی کامیابی نہیں تھی بلکہ عوامی اعتماد کا واضح اظہار تھی۔
1997ء کے انتخابات پاکستانی سیاست میں تحریک کے کردار کا ایک منفرد باب ہیں۔ اس دور میں برسوں سے روایتی سیاسی غلامی میں استعمال ہونے والا ووٹ پہلی مرتبہ منظم انداز میں نظریاتی بنیاد پر استعمال ہوا۔ تحریک کے فیصلوں اور اتحادوں نے ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ تکفیری فکر کے سرغنہ کو تحریک کے امیدوار امان اللہ سیال کے ہاتھوں شکست دینا اس وقت کی سیاسی و مذہبی فضا میں ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ اسی دور میں تحریک نے قومی اسمبلی اور سینٹ جیسے اعلیٰ پارلیمانی اداروں میں نمائندگی حاصل کی، جبکہ دو علماء کا سینیٹر منتخب ہونا اس کی سیاسی قوّت کی علامت سمجھا گیا۔ لیہ سے اللہ بخش سامٹیہ کی صوبائی اسمبلی میں کامیابی نے جنوبی پنجاب میں بھی تحریک کی موجودگی کو مستحکم کیا۔
1999ء کے شمالی علاقہ جات کے انتخابات میں تحریک کے پانچ امیدواروں کی کامیابی نے واضح کر دیا کہ گلگت بلتستان اس پلیٹ فارم کا مضبوط سیاسی مرکز بن چکا ہے۔ 2000ء میں حاجی فدا محمد ناشاد کا بلا مقابلہ ڈپٹی چیف ایگزیکٹو منتخب ہونا اس عوامی اعتماد کا تسلسل تھا۔ بعد ازاں 2001ء میں شیخ غلام حیدر اور عمران ندیم کا بطور وزیرِ مشاور منتخب ہونا بھی اسی سیاسی سفر کا اہم حصہ ہے۔
آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی تحریک کی موجودگی اور خواتین کی مخصوص نشستوں پر نمائندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ملی پلیٹ فارم نے صرف مخصوص علاقوں تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ قومی سطح پر اپنی سیاسی شناخت قائم رکھنے کی کوشش کی۔ متحدہ مجلس عمل میں شمولیت اور خیبر پختونخوا میں ایم ایم اے حکومت کا حصہ بننا بھی اسی سیاسی حکمتِ عملی کا تسلسل تھا۔ اس دور میں مرکزی نائب صدر شیعہ علماء کونسل علامہ رمضان توقیر کا مشیرِ وزیراعلیٰ مقرر ہونا، دو امیدواروں کا صوبائی اسمبلی تک پہنچنا اور قومی اسمبلی کی مخصوص نشست حاصل ہونا اس پلیٹ فارم کے اثر و رسوخ کا مظہر تھا۔
گلگت بلتستان میں دیدار علی کا صوبائی وزیر بننا، 8 جون 2015ء کے انتخابات میں تحریک کے چار امیدواروں کی اسمبلی تک رسائی، محمد شفیع خان کا اپوزیشن لیڈر بننا، جی بی کونسل میں علامہ سید محمد عباس رضوی اور کشمیر کونسل میں غلام رضا نقوی کی نمائندگی، یہ سب اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ تحریک نے محض احتجاجی سیاست نہیں کی بلکہ عملی پارلیمانی کردار بھی ادا کیا۔
اسی طرح گلگت بلتستان اسمبلی میں اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن کیلئے اسلامی تحریک پاکستان کے رکن اسمبلی کا چیئرمین منتخب ہونا اس بات کی علامت تھا کہ تحریک صرف سیاسی نعروں تک محدود نہیں بلکہ عوامی خدمت اور ادارہ جاتی کردار پر بھی یقین رکھتی ہے۔ سابقہ اسمبلی میں ایوب وزیری کی بطور رکن اسمبلی موجودگی اور محمد علی قائد کا معاونِ خصوصی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی مقرر ہونا اس سیاسی تسلسل کی تازہ مثالیں ہیں۔ محمد علی قائد اس سے قبل نگران وزیر کے طور پر بھی اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
ملی پلیٹ فارم کی پوری سیاسی تاریخ کو دیکھا جائے تو ایک حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس کی سیاست صرف انتخابی نشستوں کی سیاست نہیں رہی بلکہ نظریاتی استقامت، قومی خودمختاری، دینی تشخص، عوامی حقوق اور جمہوری جدوجہد کا مجموعہ رہی ہے۔ اس نے ایسے وقتوں میں بھی آواز بلند کی جب بہت سی سیاسی قوّتیں مصلحتوں کا شکار تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس پلیٹ فارم نے اپنے محدود وسائل کے باوجود پاکستانی سیاست میں ایک منفرد اور قابلِ احترام مقام حاصل کیا۔
آج جب پاکستان کی سیاست شدید بحران، نظریاتی کمزوری اور عوامی بے اعتمادی کے دور سے گزر رہی ہے، ملی پلیٹ فارم کی یہ طویل سیاسی جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ نظریے پر قائم رہنے والی تحریکیں وقتی اتار چڑھاؤ کے باوجود تاریخ میں اپنا مقام برقرار رکھتی ہیں۔ یہ جدوجہد صرف ماضی کی داستان نہیں بلکہ مستقبل کی سیاست کیلئے بھی ایک اہم فکری سرمایہ ہے۔